بنگلورو۔18/اگست(عبدالحلیم منصور/ایس او نیوز) شہر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے کشمیر میں موجودہ حالات کے مطابق منعقدہ پروگرام کے دوران ہندوستانی فوج کے خلاف نعرہ بازی کرنے والے اشرار کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے متعلق اے آئی سی سی جنرل سکریٹر ی ڈگ وجئے سنگھ کی ہدایت ایک تنازعہ بن چکی ہے۔ نہ صرف ڈگ وجئے سنگھ بلکہ ایک اور اے آئی سی سی جنرل سکریٹری امبیکا سونی نے بھی وزیر اعلیٰ سدرامیا کو ہدایت دی کہ نعرہ بازی کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ کی جائے، ان دونوں کی ہدایت ایک نئے تنازعہ کا سبب بن چکی ہے اور عوام میں اس پر شدید مزاحمت کا اظہار کیا جارہاہے۔ یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ کانگریس قائدین ملک دشمن عناصر کا راست طور پر ساتھ دے رہے ہیں تو دوسری طرف کانگریس نے جواب دیا ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے رہنما کنہیا کمار کے معاملے میں بھی کانگریس نے ایسا ہی موقف اپنایا تھا۔ اس مرحلے میں بھی کانگریس کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ بنگلور کی یونائیٹیڈ تھیالوجیکل کالج میں پروگرام کے دوران ہندوستانی فوج کے خلاف نعرہ بازی کرنے کے سلسلے میں ویڈیوکے ذریعہ ثبوت مل جانے کے بعد بھی خاطیوں کو گرفتار نہ کرنے ان دونوں رہنماؤں کی وزیر اعلیٰ سدرامیا کو ہدایت پر کافی ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہ معاملہ ریاست میں ایک بڑا تنازعہ بن چکا ہے اور ریاست گیر پیمانے پر احتجاجات شروع ہوچکے ہیں۔ اس دوران فرقہ پرستوں نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس نے ہمیشہ سے ہی علیحدگی پسند، ملک دشمن عناصر کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ غدار ہوں یا دہشت گرد یا نکسلی، ساتھ ہی سنگھ پریوار کی تنظیموں نے کہا ہے کہ خود ساختہ دانشوروں کی طرف سے بھی فوج کے خلاف نعرہ بازی کرنے والوں کی درپردہ حمایت کی جارہی ہے۔گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ذلت آمیز شکست کے باوجود بھی کانگریس نے اپنا راستہ نہیں بدلا۔ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھے بغیر اعلیٰ کمان کے قائدین کی طرف سے دئے گئے اس بیان کی پرواہ کئے بغیر وزیر اعلیٰ سدرامیا نے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور اور دیگر پولیس عہدیداروں کو سخت ہدایت دی ہے کہ کسی بھی حال میں ملک دشمن سرگرمیوں کو بخشا نہ جائے۔ اگر صورتحال میں سدھار نہیں آیا تو آنے والے دنوں میں ملک دشمن عناصر اور سراٹھانے لگیں گے، کانگریس اور اس کے قائدین ان سے نمٹنے کیلئے کچھ کر نہیں پائیں گے۔اس دوران ریاستی کونسل کے اپوزیشن لیڈر کے ایس ایشورپا نے ڈگ وجئے سنگھ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا اور وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور سے کہا ہے کہ ان کے بیانات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شہر کے ایک کالج میں ملک دشمن نعرہ بازی کئے جانے کی خبریں انہوں نے ٹی وی پر دیکھی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈگ وجئے سنگھ نے جو بیان دیاہے وہ ان کی غیر ذمہ داری کا مظہر ہے۔ساتھ ہی ان کا بیان کانگریس کے دوغلے پن کا ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔ ایشورپا نے کہاکہ بعض کانگریسی بہت پہلے سے ہی ایسے حساس معاملات پر متنازعہ بیانات دینے کے عادی ہیں،تاکہ سستی شہرت حاصل کرسکیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک کے خلاف نعرہ بازی جن لوگوں نے بھی کی ہے فوری طور پر ان کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی یقینی بنائی جائے۔ ملک کے خلاف نعرہ بازی پر احتجاج کرنے والے طلبا وطالبات پر پولیس کے لاٹھی چارج کی ایشورپا نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کی بجائے محض احتجاج کرنے والے طلباپر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں ہے۔